حدیث نمبر: 661
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، يَا هَؤُلَاءِ! أَكَذَاكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بسر بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مقاعد میں آئے اور وضو کا پانی منگوایا اس طرح وضو کیا کہ کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، دونوں ہاتھوں کو تین تین بار دھویا، پھر سر کا مسح کر کے دونوں پاؤں کو تین تین دفعہ دھویا اور کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اے لوگو! کیا اسی طرح تھا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے موجود صحابہ کی ایک جماعت سے یہ تصدیق کروائی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … سر کا تین دفعہ مسح کرنے کے بارے مسلم کی روایت صریح نہیں البتہ مسند احمد کی زیر مطالعہ حدیث صریح ہے اور اسے تین دفعہ مسح راس کا جواز ثابت ہوتا ہے اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری، ج: ۱، ص: ۲۶۰۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 661
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 230 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 487»