حدیث نمبر: 6607
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى لِحَمْلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمُقْضَى عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی کے لئے ان کی اس بیوی سے وراثت حاصل کرنے کا فیصلہ دیا تھا، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایاتھا کہ قتل ہونے والے جنین کی دیت ایک لونڈی یا ایک غلام ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقتولہ عورت کے بیٹے اور خاوند اس کے وارث بنیں گے۔ حمل بن مالک کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قاتلہ کے باپ، جس نے ایک غلام یا ایک لونڈی دینی تھی، نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کس طرح بھروں، جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، اس قسم کے نفس تو رائیگاں ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو نجومیوں میں سے ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6607
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف،الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي بن الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة ، لكن قصة حمل بن مالك ھذه صحيحة بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2643 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»