الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
بَابُ دِيَةٍ أَهْلِ الذَّمَّةِ وَالْمُكَاتَبِ باب: ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6601
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ يُؤَدَّى لِمَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکاتَب کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اگر اس کو قتل کر دیا جائے تو وہ اپنی مکاتَبت میں سے جتنا حصہ ادا کر چکا تھا، اس کی اتنی دیت آزاد آدمی کی ادا کی جائے گی، اور جتنا حصہ باقی تھا، اتنی دیت غلام کی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مکاتَب قتل ہو جائے تو اس کے قاتل کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکاتَب کتابت کا جتنا حصہ ادا کر چکا تھا، اس کے مطابق اس کے وارثوں کو آزاد کی دیت ادا کرے اور اس کا جتنا حصہ ابھی تک غلام تھا، اس کے مطابق اس کے مالک کو غلام کی دیت ادا کرے۔ مثلا جو غلام نصف رقم ادا کر چکا ہو، وہ نصف آزاد ہو گا اور نصف غلام، اس حالت میں اگر وہ قتل ہو جائے تو نصف آزاد حصے کی دیت پچاس اونٹ ہو گی اور باقی نصف غلام کی دیت دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ غلام کی دیت کیسے دی جائے گی؟ تو گزارش ہے کہ اس مسئلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مرفوع روایت نہیں ملتی، لیکنیہ مسئلہ اہل علم کے درمیان اس طرح مشہور ہے کہ غلام کی دیت میں اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی، آگے اختلاف کی ایک اور صورت بھی ہے کہ اگر غلام کی قیمت آزاد آدمی کی دیت سے بھی زیادہ ہو جائے تو کیا اس کی قیمت کیادائیگی لازم ہو گییا نہیں؟ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ قیمت لازم ہو گی۔ واللہ اعلم۔
مکاتب: … اس غلام کو کہا جاتا ہے جو اپنا معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ اپنے مالک سے کر لے، ایسا غلام جب تک معاوضہ ادا نہ کر دے، وہ اس مالک کا غلام ہی رہتا ہے۔
مکاتب: … اس غلام کو کہا جاتا ہے جو اپنا معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ اپنے مالک سے کر لے، ایسا غلام جب تک معاوضہ ادا نہ کر دے، وہ اس مالک کا غلام ہی رہتا ہے۔