حدیث نمبر: 660
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ تَحَرَّيْتُ لَكُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَتَقَدَّمَ فِي بَابِ غَسْلِ الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ يَقُولُ: ((الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھا دوں؟“ لوگوں نے کہا: ”جی کیوں نہیں،“ پھر انہوں نے پانی منگوایا، تین دفعہ کلی کی، تین بار ناک جھاڑا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین بار بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے تین تین بار دونوں پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: ”جان لو کہ کان، سر میں سے ہیں۔ تحقیق میں نے تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو پیش کیا ہے۔“ باب غسل الوجه میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور آپ فرماتے تھے ”کان، سر میں سے ہیں۔“

وضاحت:
فوائد: … اَ لْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ (کان، سر میں سے ہیں) کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں، اس کی صحابۂ کرام سے کئی سندیں ہیں، مثلا سیدنا ابو امامہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو موسی، سیدنا انس، سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا سیدنا عبد اللہ بن زید۔ ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۶، ارواء الغلیل: ۸۴ ان الفاظ کی فقہ یہ ہے کہ جو حکم سر کے مسح کا ہے، وہی کانوں کا ہے،اگر سر کا مسح ایک یا تین بار درست ہے تو کانوں کا بھی اسی طرح ہو گا، نیز کانوں کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 660
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث عثمان حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/11، وتقدم حديث ابي امامة برقم: 652 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 429»