الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي وَفَادَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا معاویہ بن حیدہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 66
((ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ وَمُفَدَّمَةٌ أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ (وَفِي رِوَايَةٍ يُتَرْجِمُ))) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا دِينُنَا؟ قَالَ: ((هَذَا دِينُكُمْ وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔“ ایک روایت میں ہے: ”تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔“
وضاحت:
فوائد: … قیامت والے دن لوگوں کو مختلف مراحل سے گزارا جائے گا، بعض مراحل پر لوگ اپنی زبانوں سے باتیں کریں گے، لیکن بعض مقامات پر ان کی زبانوں کو بند کر کے ان کے مختلف اعضا کو بولنے کی طاقت دی جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} … ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ (سورۂ یس: ۶۵)