الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
بَابٌ جَامِعٌ لِدِيَةِ مَادُونَ النَّفْسِ مِنَ الْأَعْضَاءِ وَالْجِرَاحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ فَنِصْفَ الدِّيَةِ وَفِي الْعَيْنِ نِصْفَ الدِّيَةِ وَفِي الْيَدِ نِصْفَ الدِّيَةِ وَفِي الرِّجْلِ نِصْفَ الدِّيَةِ وَقَضَى أَنْ يَعْقِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا وَلَا يَرِثُونَ مِنْهَا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا وَقَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ جب کسی کا ناک مکمل کٹ جائے تو اس کی پوری دیت ہے،جب ناک کی نوک کٹ جائے تو نصف دیت ہے، ایک آنکھ میں نصف دیت ہے، ایک ہاتھ میں نصف دیت ہے اور ایک پاؤں میں نصف دیت ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ عورت کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے اور وہ جو بھی ہوں اور یہ عصبہ اس عورت کے اصحاب الفروض سے بچنے والے مال کے وارث بنیں گے، اور اگر خاتون قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں کو ملے گی اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ کی دیت مسلمانوں کی دیت کی بہ نسبت نصف ہے۔
’’عَاقِلہ‘‘: … کسی کے باپ کی طرف سے وہ رشتہ دار جو دیت کی ادائیگی میں شریک ہوں، مثلا بھائی، بھتیجے، چچے، چچا زادے وغیرہ۔
لیکن ان رشتہ داروں میں اس قاتل کا بیٹا داخل ہے نہ باپ، جب قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کیا تو ہر ایک کا خاوند بھی تھا اور اولاد بھی تھی، لیکن راوی کہتے ہیں: فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ V دِیَۃَ الْمَقْتُوْلَۃِ عَلٰی عَاقِلَۃِ الْقَاتِلَۃِ وَبَزَأَ زَوْجَھَا وَوَلَدَھَا۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول خاتون کی دیت قاتل خاتون کے عاقلہ پر ڈال دی اور اس کے خاوند اور اولاد کو دیت کی ادائیگی سے مستثنی کر دیا۔ (ابوداود: ۴۵۷۵، ابن ماجہ: ۲۲۴۸)
یہ مسئلہ شریعت کے عام قوانین سے ہٹ کر ہے، عام قانون یہ ہے کہ مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا، لیکن قتل خطا کی دیت میں شریعت ِ مطہرہ نے یہ رخ اختیار کیا ہے، دراصل شریعت کا مقصود یہ ہے کہ قتل خطا والا قاتل مجرم نہیں ہے اور قتل شبہ عمد والا مجرم تو ہے کہ اس کے ہاتھ سے مسلمان قتل ہو گیا، لیکن اس کا ارادہ قتل کا نہیں تھا، اس لیے اگر ساری دیت ان پر ڈال دی جائے تو ممکن ہے کہ ان کا سارا مال ختم ہو جائے یا وہ مقروض ہو جائیں اور پھر دست ِ سوال پھیلانا شروع کر دیں، لیکن جن لوگوں کا قتل ہو گیا ہے، ان کے مقتول کے خون کو بھی رائیگاں نہیں چھوڑا جا سکتا، پس شریعت نے نرمی کرتے ہوئے ایک نئی راہ نکالی کہ ایسے قاتل کے مخصوص رشتہ دار اس کی طرف سے دیت ادا کریں۔ علم میراث میں ’’عصبہ‘‘ کی جو تعریف کی جاتی ہے وہ اور ہے، اس میں باپ، بیٹا اور پوتا داخل ہیں۔ ایک میراث کا مسئلہ بیانکیا گیا کہ اگر کوئی عورت قتل ہو جائے تو اس کے اپنے ترکہ کی طرح اس کی دیت کا مال بھی علم میراث کے قوانین کے مطابق اس کے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، عصبہ کو اصحاب الفروض سے بچا ہوا مال ملتا ہے، اس حدیث میں اسی نقطے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔