الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
باب مَا جَاءَ فِي دِيَةٍ قَتِيلِ شِبْهِ الْعَمْدِ باب: شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6585
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا وَفِيهِ أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا وَفِي لَفْظٍ أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن اوس رضی اللہ عنہ ایک صحابی ٔ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:خبردار! خطا عمد کا مقتول جو کہ کوڑے، لاٹھی یا پتھر سے مارا جائے، اس کی دیت مغلظہّ (سخت)ہے جو کہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، ایک روایت میں ہے: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … ساتویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو ثَنِیّۃ کہتے ہیں اور عمر کے نویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو بَازِل کہتے ہیں۔