الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
باب مَا جَاءَ فِي دِيَةٍ قَتِيلِ شِبْهِ الْعَمْدِ باب: شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6583
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا أَلَا إِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهَا لِأَهْلِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والے خطأ عمد کے قتل کی دیت مغلظہ ہے، کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، خبر دار!ہر خون، مال، جاہلیت کا فخر میرے قدموں کے نیچے کچل دیا گیا ہے، ہاں میں حاجیوں کو پانی پلانے اوربیت اللہ کی خدمت کرنے کا عہدہ ان ہی کے سپرد کرتا ہوں، جو پہلے سے یہ خدمت کر رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … قتل شبہ عمد میں صرف سو اونٹ دیت ہے، اس حدیث میں چالیس کی کیفیت تو بتا دی گئی ہے کہ وہ حاملہ اونٹنیاں ہوں، باقی ساٹھ اونٹوں کی تفصیل حدیث نمبر (۶۵۸۰) میں بیان کی گئی ہے، ان دو احادیث کے مطابق کل (۱۰۰) اونٹوں کی دیتیہ بنتی ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں اس قتل میں قصاص نہیں ہے، البتہ دیت قتل عمد کی دیت کی طرح بھاری ہے۔