حدیث نمبر: 6581
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً وَقَضَى فِي دِيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِبِلَ الْمَدِينَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابَ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ قَالَ فَزَادَ ثُلُثَ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا قَالَ فَكَانَ يُقَالُ يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مَاشِيَتُهُمْ لَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّهَبَ وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَالُهُمْ قِيمَةَ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی اور مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اس میں تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں، چھوٹی دیت میں آپ کا فیصلہ یہ ہے کہ تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے، بیس بنت ِ مخاض اور بیس ابن مخاض یعنی مذکر اونٹ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہو گئے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ہر اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ تھی، پھر اونٹ مہنگے ہوگئے اور چاندی کی قیمت گر گئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیت میں اضافہ کر کے دو ہزار اور بڑھا دیئے اور ہر اونٹ کی قیمت دو اوقیوں کے حساب سے لگائی، اونٹ پھر مہنگے ہوگئے اور درہم گر گئے، اس بارسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم پور ے کر دیے، ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیوں کے حساب سے لگائی اور حرمت والے مہینے میں دیت کی ادائیگی میں دیت کا تیسرا حصہ زیادہ وصول کرتے تھے اور حرمت والے شہر میں ایک اور تیسرے حصہ کا اضافہ کر دیتے تھے، اس طرح حرمین شریفین(مکہ و مدینہ) کی دیت بیس ہزار درہم مکمل ہوگئی تھی، دیہات والوں سے ان کے مویشیوں سے دیت لی جاتی تھی انہیں سونا یا چاندی دینے کا ہی مکلف نہ کیا جاتا تھا، اور ہر قوم سے ان کے مالوں سے دیت عادلانہ قیمت لگا کر وصول کی جاتی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6581
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف،الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة، لكن قصة دية الكبري صحيحة بالشواھد۔ أخرج الدية الكبري والصغري البيهقي: 8/ 74 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»