حدیث نمبر: 658
عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ)) قِيلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ: ((فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلال کرنے والے بہت اچھے ہیں۔“ کسی نے کہا: ”خلال کرنے والوں سے مراد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔“

وضاحت:
فوائد: … لیکن اس روایت کے شروع والے الفاظ صحیح ہیں، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) … بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۳۹، صحیحۃ:۲۵۶۷) معلوم ہوا کہ وضو میں ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کو خلال کرنا چاہیے، ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں میں ڈال کر اور پاؤں کی انگلیوں کا چھنگلی انگلی سے خلال کرنا چاہیے۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر: ۶۹۲۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 658
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، واصل بن السائب الرقاشي وابو سورة مجمع علي تضعيفھما، وابو سورة لا يعرف له سماع من ابي ايوب۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 12، والطبراني في الكبير : 4061 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23924»