حدیث نمبر: 6579
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَتِيلًا بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذُرِعَ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَاهُ عَلَى أَقْرَبِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک مقتول پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ کو ماپنے کا حکم دیا، گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بالشت کو دیکھ رہا ہوں،پھر آپ نے قریب والی بستی کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام سے پہلے کے کچھ اصول و ضوابط برقرار رکھے، ان میں ایک ضابطہ قسامہ ہے، قسامہ قسم کی ایک خاص صورت ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی علاقے میں مقتول پایا جائے، لیکن اس کے قاتل کا پتہ نہ چلے یا کچھ لوگوں پر شک ہو کہ وہ قتل میں ملوث ہیں، مگر کوئی ثبوت نہ ہو تو مدعی لوگوں سے پچاس قسمیں لی جائیں گی، اگر وہ پچاس قسمیں اٹھا لیں تو وہ دیت کے مستحق قرار پائیں گے، اور اگروہ یہ قسمیں نہ دیں تو مدعٰی علیہ لوگوں کے پچاس معتبر آدمیوں سے قسم لی جائے کہ نہ انھوں نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ وہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، ایسی صورت میں اس علاقے کے لوگ قتل کے الزام سے بری ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6579
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، لضعف ابي اسرائيل الملائي، وعطية العوفي۔ أخرجه البزار: 1534، والبيھقي في ’’السنن‘‘: 8/ 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11361»