حدیث نمبر: 6576
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطْلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتارا تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کو کعبہ میں اس وقت قتل کروایا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے لیے کچھ وقت کے لیے لڑائی جائز قرار دی گئی تھی، فتح مکہ کے موقع پر جب لڑائی کا معینہ وقت گزر گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا، جو روزِ قیامت تک برقرار رہے گی۔
وعظ و نصیحت، کافروں کی مذمت اور دیگر کسی اچھے مقصد کے لیے اشعار مسجد میں پڑھنے جائز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا مشرکوں کو میری طرف سے جواب دے پھر آپ نے اس کے لیے دعا کی ’’اللہم ایدہ بروح القدس‘‘ اے اللہ! جبریل کے ساتھ اس کی مدد فرما۔ (بخاری: ۶۱۵۰/۶۰۵۱) (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، وابوداود!: 2685، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»