الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ هَلْ يُسْتَوْقَى الْقِصَاصُ وَالْحُدُودُ فِي الْحَرَم وَالْمَسَاجِدِ أَمْ لَا؟ باب: کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
حدیث نمبر: 6574
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں نہ حدیں لگائی جائیں اور نہ قصاص لیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت درج ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیہِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِیہِ الْحُدُودُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے، اس میں اشعار پڑھے جائیں اور اس میں حدیں لگائی جائیں۔ (ابوداود: ۴۴۹۰)
معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔
ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)
معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔
ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)