حدیث نمبر: 6572
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَاتَلَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ أَوِ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ حَجَّاجٌ ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَعَضُّ أَحَدُكُمَا أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ وَفِي لَفْظٍ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یعلی بن منیہ یا ابن امیہ کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا، اس نے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ کھینچا، جس کی وجہ سے کاٹنے والے کا ایک یا دو دانت گر پڑے، جب یہ دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی مانند کاٹتا ہے، کوئی دیت نہیں ہے ایسے آدمی کے لیے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فرمایا: کیا تو چاہتا تھا کہ سانڈ کی طرح اپنے بھائی کے گوشت کو چبائے؟

وضاحت:
فوائد: … کسی شخص پر حملہ ہو تو اسے اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، اگر دفاعی کروائی کے دوران حملہ آور کا کوئی نقصان ہو جائے، حتی کہ وہ مر بھی جائے تو کوئی قصاص، دیتیا معاوضہ یا تاوان نہیں ہو گا، البتہ اگر دفاع کرنے والا کوئی جارحانہ کاروائی کرے گا تو وہ ذمہ دار ہو گا، یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ فلاں آدمی کی کاروائی جارحانہ ہے یا دفاعی۔ ان احادیث کے مطابق ایک آدمی نے دوسرے کی انگلیاں کاٹنا شروع کر دیں، وہ دفاع کرنے کے لیےیہی کچھ کر سکتا ہے کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ سے باہر کھینچے، لیکن کاٹنے والے نے انگلیاں اتنی مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھیں کہ اس کے دانت بھی باہر آ گئے، ایسے میں دفاعی کاروائی کرنے والا ذمہ دار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6572
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:6892، ومسلم: 1673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20067»