الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ عَضَ يَدَ رَجُلٍ فَانتَزعَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتهُ باب: اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا دِيَةَ لَكَ فَأَطْلَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا۔ سیدنایعلی بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور دوست بھی تھا، اس کی اور ایک مسلمان کی آپس میں لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے دوسرے کے بازو پرکاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا اگلا دانت گرا دیا، اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر دیت کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی طرح کاٹتا ہے اور پھر آکر دیت کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔