الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَاب فَضْلِ مَنِ اسْتَحَقَّ الْقِصَاصَ وَعَفَا باب: قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي السَّفَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي قَالَ مُعَاوِيَةُ كَلَّا إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ مُعَاوِيَةُ شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي يَعْنِي فَعَفَا عَنْهُ۔ ابو سفر کہتے ہیں: قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری آدمی کا دانت توڑ دیا، وہ فریاد رسی کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انصاری نے کہا: اس نے میرا دانت توڑ دیا ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا ہم تجھے راضی کر دیں گے، جب انصاری نے قصاص لینے پر اصرار کیا تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ساتھی کے سپرد ہے، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اپنے جسم میں لگ جانے والے زخم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کا گناہ مٹا دیتا ہے۔ انصاری نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا : جی ہاں! میرے کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اس کو یاد کیاہے، پس اس انصاری نے قریشی کو معاف کر دیا۔