حدیث نمبر: 6564
عَنْ أَبِي السَّفَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي قَالَ مُعَاوِيَةُ كَلَّا إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ مُعَاوِيَةُ شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي يَعْنِي فَعَفَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سفر کہتے ہیں: قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری آدمی کا دانت توڑ دیا، وہ فریاد رسی کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انصاری نے کہا: اس نے میرا دانت توڑ دیا ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا ہم تجھے راضی کر دیں گے، جب انصاری نے قصاص لینے پر اصرار کیا تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ساتھی کے سپرد ہے، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اپنے جسم میں لگ جانے والے زخم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کا گناہ مٹا دیتا ہے۔ انصاری نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا : جی ہاں! میرے کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اس کو یاد کیاہے، پس اس انصاری نے قریشی کو معاف کر دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو السفر، قال احمد: لا اعرف له سماعا من ابي الدردائ، بل قال الحافظ: ما اظنه ادركه، فان ابا الدرداء قديم الموت۔ أخرجه الترمذي: 1393، وابن ماجه: 2693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28084»