حدیث نمبر: 6563
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمٍ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا أَرَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ وَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا، ایک آدمی نے صدقہ دینے میں ان سے جھگڑا کیا، جواباً ابو جہم رضی اللہ عنہ نے اسے مار کر اس کا سرزخمی کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنا کچھ لے لو۔ لیکن وہ راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا۔ لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو، تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں۔ پس اب کی بار وہ راضی ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کرتا ہوں اور ان کو تمہاری رضا مندی سے آگا ہ کرتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لیث قبیلے کے یہ افراد میرے پاس آئے، انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا، میں نے ان پر اتنا مال پیش کیا اور ان سے پوچھا: کیا اب راضی ہو گئے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مہاجرین نے ان کو کچھ کہنا چاہا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رکنے کا حکم دیا تو وہ رک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور مزید دے کر فرمایا: اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں لوگوں کو خطاب کر کے ان کو تمہاری رضا کے بارے میں بتلانے والا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

وضاحت:
فوائد: … اگر بادشاہ اور کوئی صاحب ِ اختیار و اقتدار حکمران کسی کے ساتھ اس قسم کی زیادتی اور مار کٹائی والا معاملہ کرے، جیسا کہ سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، تاہم فریقِ ثانی کو کچھ دے دلا کر بھی معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیثسےیہ بھی معلوم ہوا کہ جب مظلوم قصاص کا ہی مطالبہ کر رہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ دیہاتی طبعاً سخت مزاج اور لاعلم ہوتے ہیں، اسی بنا پر انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وسعت ِ ظرفی اور حسن اخلاق کی روشنی میں ان کے اس رویے سے در گزر فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4534، والنسائي: 8/ 35، وابن ماجه: 2638 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26485»