الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ الْقِصَاصِ مِنْ وَلَاةِ الْأُمُورِ إِلَّا إِذَا اصْطَلَحَ المستحق أو عفا باب: حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
عَنْ أَبِي فِرَاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ أَلَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِي إِلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ وَلَكِنْ أُرْسِلُهُمْ إِلَيْكُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ سِوَى ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِذًا لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ رَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَئِنَّكَ لَمُقْتَصٌّ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ إِذًا لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ۔ ابو فراس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، جس میں انھوں نے ایک لمبی حدیث ذکر کی اور کہا: خبر دار! میں تم پر حکومتی کارندوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے جسموں پر ضربیں لگائیں اور تمہارے مال چھین لیں، میں تو ان کو تمہار ے پاس اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہیں دین اور سنت کی تعلیم دیں، جس کے ساتھ کوئی اور کاروائی کی جائے، وہ مجھے بتائے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے ضرور ضرور قصاص دلواؤں گا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین، آپ بتائیں کہ ایک آدمی رعایا پر مقرر ہوتا ہے اور اسے ادب سکھانے کے لیے سزا دیتا ہے، کیا آپ اس سے بھی قصاص لیں گے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس ذات قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس کو ضرورقصاص دلواؤں گا، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نفس سے قصاص دلواتے تھے۔