حدیث نمبر: 6560
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيعٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ وَجَدَّتِي عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ وَأَنَّهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً قَالَ قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا فَطَالَ عَلَيْهِمَا فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ وَهَرَبَا فَأُتِيَ عُمَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ يَقُولُ انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ وَأَنَّ فُلَانَةً جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا غَمَّاهَا ثُمَّ هَرَبَا فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ وَمَنْ وَجَدَهُمَا فَلْيَأْتِ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ (مسند أحمد: 27825)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو ان کی ملاقات کے لیے تشریف لاتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا بدر کے دن آپ مجھے اجازت دیں گے، تاکہ میں بھی آپ کے ہمراہ جاؤں اوربیماروں کی تیمار داری کروں اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت عطا کر دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تجھے شہادت عطا کریں گے۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات کے بعد ایک غلام اور ایک لونڈی کو آزاد کر رکھا تھا، جب ان دونوں کے لیےیہ مدت طویل نظر آئی تو انھوں نے ایک چادر کے ذریعے اس کو ڈھانپ دیا،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں اور وہ دونوں بھاگ گئے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی گئی کہ ام ورقہ کو اس کے غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا ہے اور وہ بھاگ گئے ہیں، تو وہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے، پھر انھوں نے کہا: چلو، اس شہید خاتون کی زیارت کرتے ہیں، فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے اس کو ڈھانپ کر مار دیا اور وہ خود بھاگ گئے ہیں، کوئی آدمی ان کو جگہ نہ دے،بلکہ جو بھی ان کو پائے، وہ ان کو میرے پاس لے آئے، پس ان دونوں کو لایا گیا اور ان کو سولی پر لٹکا دیا گیا،یہ اسلام میں پہلے دو افراد تھے، جن کو سولی پر چڑھایا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام کی موجود گی میں ایک مقتول کے عوض دو قاتل افراد سے قصاص لیا، اسی طرح ایک اور روایت ہے: سعید بن مسیب کہتے ہیں: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَۃً أَوْ سَبْعَۃً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوْہٗقُتِلَغِیْلَۃً وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمْالَأُ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیْعًا۔ … ’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات افراد کو ایک آدمی کے بدلے میں قتل کیا، انھوں نے اس آدمی کو دھوکہ دیتے ہوئے قتل کیا اور انھوں نے کہا: اگر اہل صنعاء سارے اس قتل پر جمع ہوتے تو میں ان سب کو قتل کر دیتا۔‘‘ (مؤطا امام مالک)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 591، 592 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27282 ترقیم بيت الأفكار الدولية:27825»