الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ، وَمَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْإِثْنَيْنِ بِالْوَاحِدِ باب: والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6558
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد کا والدین سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے ثابت ہوا کہ والدین کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین ہی اس بچے کے وجود کا سبب تھے، اس لیے اگر وہ اس کی زندگی ختم کر دیں تو اس کے عوض ان کی زندگی کو ختم نہ کیا جائے، دوسری وجہ والدین کا احترام بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن ایسی صورت میں باپ سے دیت لی جائے گی اور اس کو بیٹے کی میراث سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل اپنے قتل کی وجہ سے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔
لیکن ایسی صورت میں باپ سے دیت لی جائے گی اور اس کو بیٹے کی میراث سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل اپنے قتل کی وجہ سے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔