الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ قَتل الرّجُلِ بِالْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا وَالْقَتْلِ بِالْمِثْقَل وَالْقِصَاصِ مِنَ الْقَاتِلِ بِالصِّفَةِ الَّتِي قَتَلَ بِهَا باب: مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے¤قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
حدیث نمبر: 6556
عَنْ حَمْلِ بْنِ النَّابِغَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ بَيْنَ بَيْتَيْ امْرَأَتَيَّ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی دو بیویوں کے گھروں کے درمیان میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک لکڑی ماری، جس سے وہ خاتون بھی مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی ضائع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کے عوض ایک لونڈی یا غلام دیا جائے گا اور عورت کو قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے دو مسئلے تو بالنص ثابت ہوئے: (۱) عورت کے غیر مسلم قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور (۲) عورت کی قاتل عورت کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
رہایہ مسئلہ کہ جب مسلمان مرد، مسلمان عورت کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں، تو جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مرد سے عورت کا قصاص لیا جائے گی، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر (۶۵۴۹) ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل اسلام کے خونوں کو برابر قرار دیا ہے۔
امام ابن منذر kنے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، امام حسن بصری اور امام عطاء سے منقول روایت کے علاوہ عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ (الاجماع لابن المنذر: ص ۱۴۴، رقم: ۶۵۳)
رہایہ مسئلہ کہ جب مسلمان مرد، مسلمان عورت کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں، تو جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مرد سے عورت کا قصاص لیا جائے گی، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر (۶۵۴۹) ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل اسلام کے خونوں کو برابر قرار دیا ہے۔
امام ابن منذر kنے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، امام حسن بصری اور امام عطاء سے منقول روایت کے علاوہ عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ (الاجماع لابن المنذر: ص ۱۴۴، رقم: ۶۵۳)