الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ قَتل الرّجُلِ بِالْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا وَالْقَتْلِ بِالْمِثْقَل وَالْقِصَاصِ مِنَ الْقَاتِلِ بِالصِّفَةِ الَّتِي قَتَلَ بِهَا باب: مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے¤قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا فَقَالَ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا قَالَ فَفُلَانٌ الْيَهُودِيُّ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ۔ (دوسری سند) ایک لونڈی باہر نکلی، اس نے زیور پہنا ہوا تھا، ایک یہودی نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا سر کچل کر اس کا زیور اتار کر لے گیا، جب اس لونڈی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایاگیا تو اس میں ابھی تک جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیافلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے نہیں میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر فلاں نے قتل کے ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے نہیں میں جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: کیا فلاں یہودی نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے ہاں میں جواب دیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی کو پکڑا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔