الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ لَا يُقْتَلُ مُسْلَمُ بِكَافِرٍ ، وَمَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحُرِ بالعبد باب: اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے¤بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 6550
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَدِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، ایک روایت میں ہے: کافر کی دیت مسلمان کی نصف دیت کے برابر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان اور کافر کی شان برابر نہیں ہو سکتی، لیکن اسلام زیادتی کو بھی پسند نہیں کرتا، اس لیے اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دیتا ہے، تو اس کے لواحقین کو نصف دیت دینا ہو گی۔