حدیث نمبر: 6549
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں،یہ اپنے دشمنوں کے خلاف تعاون میں سب ایک جیسے ہیں، ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے، خبر دار! مؤمن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گااور کسی ذمّی کو اس کے معاہدے کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اسلام نے احکام کو مرتّب کرتے وقت ادنی و اعلی کی تمیز ختم کر دی ہے، جو دنیا پر راج کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، لیکن اہل اسلام اس قانون کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
’’ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت کسی حربی کافر کو امان دے دے، تو تمام مسلمانوں کو اس امان کو قبول کرنا پڑے گا اور کسی کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اس کو توڑ سکے۔
ذمّی اس شخص کو کہتے ہیں، جس کا تعلق دار الحرب سے ہو،لیکن وہ امان لے کر مسلمانوں کے ملک میں آیا ہوا ہو، ایسے شخص کو قتل کرنا حرام ہے، معاہدے کے مطابق اس کی امان برقرار رہے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:3172، 6755، 7300، ومسلم: 1370 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 991»