الفتح الربانی
أبواب القصاص— قصاص کے ابواب
بَابُ لَا يُقْتَلُ مُسْلَمُ بِكَافِرٍ ، وَمَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحُرِ بالعبد باب: اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے¤بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ قَالَ لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ۔ سیدنا ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ قرآن پاک کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو کوئی اور چیز بھی دی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ہے!کوئی چیز نہیں دی، ما سوائے اس فہم و بصیرت کے جو اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو قرآن میں عطا کردیتا ہے، یا پھر وہ چیز ہے جو اس صحیفے میں ہے۔ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: دیت کے مسائل،قیدی کو آزاد کرنا اور یہ کہ مسلمان کو کافرکے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کافر کو قتل کر دے تو قصاصاً مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی لوگوں کے اندر یہ غلط فہمی عام ہو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی خاص علم سکھایا ہے۔ جس کا ازالہ انہوں نے کیا ہے۔