حدیث نمبر: 6548
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ قَالَ لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ قرآن پاک کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو کوئی اور چیز بھی دی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ہے!کوئی چیز نہیں دی، ما سوائے اس فہم و بصیرت کے جو اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو قرآن میں عطا کردیتا ہے، یا پھر وہ چیز ہے جو اس صحیفے میں ہے۔ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: دیت کے مسائل،قیدی کو آزاد کرنا اور یہ کہ مسلمان کو کافرکے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کے سوال کا پس منظر یہ تھا کہ شیعہ کے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت کے پاس خصوصاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص علم کی خبر دی ہے، جواباً سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑے جامع انداز میں اس نظریہ کی تردید کر دی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کافر کو قتل کر دے تو قصاصاً مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی لوگوں کے اندر یہ غلط فہمی عام ہو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی خاص علم سکھایا ہے۔ جس کا ازالہ انہوں نے کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 111، 3047، 6915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 599»