حدیث نمبر: 6546
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً قتل کیا، اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیاجائے گا، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں، چاہیں تو دیت لے لیں، جس کی تفصیل یہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں،یہ قتل عمد کی دیت ہے، نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں، وہ ان کی ہو گی،یہ سخت ترین دیت ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حِقّہ: وہ اونٹنی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہو، جذعہ: وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہو، خَلِفَہ: حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں قتل عمد کی دیت بیان کی گئی ہے۔
’’نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں‘‘ اس سے مراد مذکورہ دیت کے علاوہ کوئی چیز ہو سکتی ہے، یعنی جب مظلوم قصاص ہی کا مطالبہ کر ر ہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے دلا کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دیت کی ادائیگی کا وقت اور مقام بھی اس میںشامل ہیں، دونوں فریق ان امور کے پابند ہوں گے۔
مسلمان کے خون کا اندازہ لگائیںکہ اگر اولیائے مقتول قصاص معاف کر کے دیت لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کو (۱۰۰) اونٹ دیئے جائیں اور وہ بھی عام اونٹ نہیں ہیں، بلکہ تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں ہیں۔ کاش ہم بھی اسلام کی وجہ سے مسلمان کے وجود کی معرفت حاصل کر لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 1387، وابن ماجه: 2626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6717»