حدیث نمبر: 6545
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجِرَاحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ أَوْ يَعْفُوَ فَإِنْ أَرَادَ رَابِعَةً فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ فَإِنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ عَدَا بَعْدُ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا قتل ہو جائے یاجس کو کوئی زخم لگ جائے، اس کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے: (۱) وہ قصاص لے لے، یا (۲) دیت لے لے یا پھر (۳) معاف کر دے، اگر کوئی چوتھی صورت چاہے تو اسے روک دو، اگر کوئی آدمی ان تین میں سے ایک چیز اختیار کرلے اور پھر اس کے بعد زیادتی کرے، تو اس کے لئے دوزخ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا بعض مضمون اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: {فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذَالِکَ فَلَہٗعَذَابٌاَلِیْمٌ} ’’پس جس نے (قبولِ دیت) کے بعد زیادتی کی، اس کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔‘‘ (بقرہ: ۱۷۸)شریعت ِ مطہرہ نے مظلوم کے حق کا بھی تعین کر دیا ہے، ظالم کے ظلم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6545
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سفيان بن ابي العوجاء السلمي۔ أخرجه ابوداود: 4496، وابن ماجه: 2623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16488»