حدیث نمبر: 654
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ)) فَقَالَ نُعَيْمٌ: لَا أَدْرِي قَوْلَهُ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نعیم بن عبداللہ مجمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، وہ (کہنیوں سے اوپر والے) بازوؤں کے حصے کو دھونے لگے، پھر مجھ پر متوجہ ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قیامت کے روز وضو کے آثار کی وجہ سے میری امت کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے، اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔“ نعیم نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ’اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔‘ کے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن قیم نے ان الفاظ کو مدرج شمار کیا ہے، شیخ البانی کا رجحان بھی اس طرف ہے، دیکھیں: ارواء الغلیل: ۹۴ حافظ ابن حجر نے کہا: دس صحابہ نے اس حدیث کو بیان کیا، ان سب نے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے کے الفاظ بیان نہیں کیے اور سیدنا ابو ہریرہ ؓکے شاگردوں میں سے بھی صرف نعیم مجمر نے روایت کیے۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۳۶) اور ان کو بھی ان الفاظ کے بارے میں تردّد ہے۔
((فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ۔)) کے متعلق بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہ الفاظ مدرج ہیں، مرفوع حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کہنیوں اور پاؤں سے سے زاید حصہ دھونا ابو ہریرہؓ کے اپنے عمل اور ان کے واسطہ سے مرفوعاً ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶) میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے وضو کرتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بازو دھوئے اور پاؤں کے ساتھ پنڈلیوں کو دھویا اور فرمایا: ہٰکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتوضا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے مذکورہ بالا جملے کے مرفوع ہونے کی تائید ہوتی ہے اور ہاتھوں کے ساتھ بازو اور پاؤں کے پنڈلیوں کو دھونا جائز اور درست ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 654
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8394»