الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ النَّهْي عَنْ قَتْلِ الْحَيَوَانِ أَوِ الْإِنْسَانِ صَبْرًا أَوْ بِشَيْءٍ فِيْهِ تَعْذِيْبٌ وَعَنِ التَّمْثِيْلِ بِهِ باب: حیوان یا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6532
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِيهِ رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَى الدَّجَاجَةِ فَحَلَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلَامِ وَقَالَ لِيَحْيَى: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ هَذَا مِنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ عَلَى الْقَتْلِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِقَتْلٍ، وَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَبْحَهَا فَاذْبَحُوهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن عمرو کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، یحییٰ بن سعید کے پاس گئے اور ان کا ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اس کو نشانہ بنا رہا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جاکر مرغی کھول دی اور مرغی اور اس لڑکے کو سامنے لا کر یحییٰ سے کہا: اپنے اس لڑکے کو منع کرو کہ یہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کا نشانہ نہ بنائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانورکو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر تم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہو تو ذبح کے طریقے کے مطابق ذبح کر لو۔