الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
باب مَالَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ باب: ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 6531
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً وَذَكَرَ فِيهِ الضِّفْدَعَ يُجْعَلُ فِيهِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسی دواء کا ذکر کیا، جس میں وہ مینڈک ملاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔
وضاحت:
فوائد: … مینڈک کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ بوقت ِ ضرورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔ مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے، لیکنیہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے، بلکہ عرصۂ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہذا اس کو آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔