حدیث نمبر: 653
عَنْ أَبِي زُرْعَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَيْنِ، فَلَمَّا غَسَلَ رِجْلَيْهِ جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ إِلَى السَّاقَيْنِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا مَبْلَغُ الْحِلْيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو زرعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوا کر وضو کیا، جب انہوں نے بازوؤں کو دھویا تو کہنیوں سے تجاوز کر گئے، اسی طرح جب پاؤں کو دھویا، تو ٹخنوں سے تجاوز کر کے پنڈلیوں کو بھی دھونے لگ گئے، میں نے کہا: ”یہ کیسا وضو ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ زیور اور زینت کے پہنچنے کی جگہ ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہؓکا مقصد یہ تھا کہ جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا، وہ ساری جگہ قیامت والے دن چمکتی ہو گی، مزید وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 653
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7559، ومسلم: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7166»