الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ عَدْمٍ دُخُولِ الْمَلَائِكَةِ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ أَوْ صُورَةٌ باب: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا قَالُوا فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اور اس کے گھر سے پہلے کچھ اور لوگوں کا گھر بھی پڑتا تھا، یہ بات اس گھر والوں پر بڑی گراں گزری اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے کہ آپ فلاں کے گھر تو جاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے۔ دراصل ان کے گھر میں بلی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بلی بھی تو ایک درندہ ہے۔