حدیث نمبر: 6525
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ فَقَالَ لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ قَالَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ فَبَهَشَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ فَقَالَ لَمْ تَأْتِنِي فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غمگین ہونے کے آثار دیکھے اور پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دنوں سے جبریل علیہ السلام میرے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب دیکھا گیا تو کتے کا ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں پایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا، اتنے میں جیریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوشی میں ان کی جانب لپکے اور فرمایا: آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے کہا: جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں، ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6525
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه الطيالسي: 627، وابن ابي شيبة: 5/ 406، والبزار: 2589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22115»