الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
تَابُ مَا يَجُوزُ اقْتِنَاؤُهُ مِنَ الْكِلَابِ بَعْدَ الرُّحْصَةِ وَمَا لَايَجُوزُ باب: اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
حدیث نمبر: 6523
عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ ، جو شنوء ہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے صحابی تھے، سے مروی ہے کہ انھوں نے مسجد کے دروازے کے پاس یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا رکھا جو اسے کھیتی اور جانوروں سے کفایت نہیں کرتا تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا۔ کسی نے کہا: کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں کہا: جی بالکل، اس مسجد کے رب کی قسم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث کی شرح میں تمام احادیث کا خلاصہ بیان کیا جا چکا ہے، کسی بڑے مقصد کے بغیر کتے کو پالنا باعث ِ خسارہ ہے۔جو لوگ گھروں کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کا اہتمام کرتے ہیں، ان کو بار بار غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے سامنے معذور ثابت کر سکیں گے۔