الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
تَابُ مَا يَجُوزُ اقْتِنَاؤُهُ مِنَ الْكِلَابِ بَعْدَ الرُّحْصَةِ وَمَا لَايَجُوزُ باب: اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
حدیث نمبر: 6521
عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِ زَرْعٍ أَوْ ضَرْعٍ أَوْ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنْ كَانَ فِي دَارٍ وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ قَالَ هُوَ عَلَى رَبِّ الدَّارِ الَّذِي يَمْلِكُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھیتی، مویشیوں کی حفاظت اور شکار کے مقصد کے علاوہ کتا پالا تو اس کے اعمال میں سے روزانہ ایک قیراط کا نقصان ہوگا۔ ابو الحکم کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اگر وہ کتا کسی گھر میں ہو، اور میں اسے ناپسند کروں؟ انھوں نے کہا: یہ وعید گھر کے مالک کے لیے ہے۔