الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
تَابُ مَا يَجُوزُ اقْتِنَاؤُهُ مِنَ الْكِلَابِ بَعْدَ الرُّحْصَةِ وَمَا لَايَجُوزُ باب: اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
حدیث نمبر: 6520
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنِ اتَّخَذَ أَوْ قَالَ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ فَقَالَ أَنَّى لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَرْثٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو نہ شکاری ہو اور نہ مویشیوں کی حفاظت کرنے والا، تو ہر روز اس کے اجر سے د و قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو کھیتی والے کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں، تو انھوں نے کہا: ابوہریرہ کی کھیتی کہاں سے آگئی۔