الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
تَابُ مَا يَجُوزُ اقْتِنَاؤُهُ مِنَ الْكِلَابِ بَعْدَ الرُّحْصَةِ وَمَا لَايَجُوزُ باب: اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
حدیث نمبر: 6519
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا پالا، روزانہ اس کے عمل میں سے ایک قیراط کی کمی ہو جاتی ہے، الّا یہ کہ وہ کتا کھیتی اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کھیتی اور جانوروںکی حفاظت کے لیے اور شکار کرنے کی خاطر کتا رکھا جا سکتا ہے، اسی طرح اشد ضرورت کی بنا پر گھر کی رکھوالی کے لیے بھی اس کی اجازت ہو سکتی ہے، جس نے مذکورہ صورتوں کے علاوہ کتا رکھا تو وہ شخص خسارے میں ہے، اس کے نیک اعمال سے روزانہ ایک قیراط وزن کم کر دیا جائے گا۔ اگلی حدیث میں دو قیراط کا ذکر ہے۔
قیراط کا اطلاق دو طرح کے وزن پر ہوتا ہے: (۱) معمولی وزن پر اور وہ اس طرح کہ ایک دینار بیس قیراط کا ہوتا ہے اور دینار ساڑھے چار ماشے (یعنی: ۳۷۴.۴گرام) کا ہوتا ہے، گویا ایک قیراط کا وزن تقریباً (۲۲۰) ملی گرام بنتا ہے۔
(۲) غیر معمولی وزن پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص احادیث میں قیراط کو احد پہاڑ کے برابر قرار دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث میں قیراط سے مراد کیا ہے؟ تو اس کی بابت اہل علم کی آراء مختلف ہیں، بعض نے معمولی وزن مراد لیا اور بعض نے غیر معمولی۔
درج ذیل دو نکات کی وجہ سے اس مقام پر مطلق قیراط کو معمولی مراد لینا چاہیے: (۱) اللہ تعالی کا فضل و کرم اور رحمت و مغفرت بڑی وسیع ہے، بلکہ اس کے غصے اور سزا سے زیادہ ہے، اس لیے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کم نیکیاں کاٹی جائیں۔
(۲) شریعت ِ مطہرہ کا مزاج نرمی ہے، نہ سختی اور نرمی معمولی قیراط مراد لینے میںہے۔
قیراط کا اطلاق دو طرح کے وزن پر ہوتا ہے: (۱) معمولی وزن پر اور وہ اس طرح کہ ایک دینار بیس قیراط کا ہوتا ہے اور دینار ساڑھے چار ماشے (یعنی: ۳۷۴.۴گرام) کا ہوتا ہے، گویا ایک قیراط کا وزن تقریباً (۲۲۰) ملی گرام بنتا ہے۔
(۲) غیر معمولی وزن پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص احادیث میں قیراط کو احد پہاڑ کے برابر قرار دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث میں قیراط سے مراد کیا ہے؟ تو اس کی بابت اہل علم کی آراء مختلف ہیں، بعض نے معمولی وزن مراد لیا اور بعض نے غیر معمولی۔
درج ذیل دو نکات کی وجہ سے اس مقام پر مطلق قیراط کو معمولی مراد لینا چاہیے: (۱) اللہ تعالی کا فضل و کرم اور رحمت و مغفرت بڑی وسیع ہے، بلکہ اس کے غصے اور سزا سے زیادہ ہے، اس لیے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کم نیکیاں کاٹی جائیں۔
(۲) شریعت ِ مطہرہ کا مزاج نرمی ہے، نہ سختی اور نرمی معمولی قیراط مراد لینے میںہے۔