الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم باب: کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَكُمْ وَالْكِلَابَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو ماردینے کا حکم دیا اور پھر فرمایا: تمہارا کتوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کتوں کو قتل کرنے کا عام حکم منسوخ ہو چکا ہے، البتہ کالے سیاہ کتے کو قتل کرنے کا حکم باقی ہے، رہا مسئلہ کہ گھر کے اندر کتا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔