الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم باب: کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6517
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کالا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کالے سیاہ کتے کو شیطان قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا ضرر دوسرے کتوں سے زیادہ ہوتا ہے، مجازی طور پر اس کو شیطان کہا گیا ہے، ویسے بھی عربوں کے کلام میں ہر سر کش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔ جیسے برے اور شرارتی انسان کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ڈراؤنے اور موذی کتے کو بھی شیطان کہا گیا ہے، شیطان کسی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وصف ہے، جس میں بھی پایا جائے گا، اس کو شیطان کہیں گے۔