الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم باب: کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6516
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے بھی مختلف امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کو مکمل طور پر قتل کرنے کا حکم دے دیتا، اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کو قتل کر دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے میں کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت رکھی ہوتی ہے، اس لئے اس کی مخلوق میں سے ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا مناسب نہیں، تاہم ان میں سے شریر قسم کے کتے جو کالی سیاہ رنگت والے ہیں انہیں ماردو، باقیوں کو قتل نہ کرو۔