الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم باب: کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6515
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کتے مارنے کا حکم دیا اور (پھر ہم نے کتوں کا قتل کیا) یہاں تک کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے بھی قتل کر دیتے، لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آنکھوں پر سفید رنگ کے دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو مار دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔