الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْكِلَابِ وَاقْتِنَائِهَا¤ بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِهَا وَ سَبَبٍ ذَلِكَ باب: کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 6511
عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَلِي كَلْبٌ فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ كَلْبِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میرا گھر آبادی سے دور ہے اور میرا ایک کتا ہے جو اس کی رکھوالی کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند دن کے لئے ان کو رخصت دی، لیکن پھر اس کتے کو بھی مارنے کا حکم دے دیا۔