حدیث نمبر: 6510
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْتُلَ الْكِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُهَا، لَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ بِبَيْتٍ فَذَهَبْتُ لِأَقْتُلَهُ فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ يَا عَبْدَ اللَّهِ! مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ؟ قُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ هَذَا الْكَلْبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ مَضِيعَةٌ وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَطْرُدُ عَنِّي السَّبُعَ وَيُؤَذِّنُنِي بِالْجَائِي، فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرْ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَنِي بِقَتْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کتوں کو قتل کر نے کا حکم دیا، پس میں ان کو قتل کرنے کے لیے نکلا، جو کتابھی مجھے نظر آتا، میں اسے قتل کر دیتا، ایک کتا ایک گھر کے گرد گھوم رہا تھا، جب میں اسے مارنے لگا تو گھر کے اندر سے ایک انسان نے مجھے آواز دی اور کہا: او اللہ کے بندے! تو کیا کرنا چاہتاہے؟ میں نے کہا: میں اس کتے کو مارنا چاہتاہوں، اس عورت نے کہا: میں اس جنگل بیاباں میں رہتی ہے، (جو کہ ضیاع و ہلاکت کا سبب ہے) اور یہ کتا درندوں کو مجھ سے دفع کرتا ہے اور اس کی وجہ سے آنے جانے والوں کی مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، اس لیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور میری یہ بات بتلا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کتے کو قتل کرنے کا ہی حکم دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6510
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ان ثبت سماع سالم بن عبد الله من أبي رافع۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 4668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27730»