الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْكِلَابِ وَاقْتِنَائِهَا¤ بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِهَا وَ سَبَبٍ ذَلِكَ باب: کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَا أَبَا رَافِعٍ! اقْتُلْ كُلَّ كَلْبٍ بِالْمَدِينَةِ)) قَالَ: فَوَجَدْتُ نِسْوَةً مِنَ الْأَنْصَارِ بِالصَّوْرَيْنِ مِنَ الْبَقِيعِ لَهُنَّ كَلْبٌ فَقُلْنَ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَغْزَى رِجَالَنَا وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَمْنَعُنَا بَعْدَ اللَّهِ، وَاللَّهِ! مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَنَا حَتَّى تَقُومَ امْرَأَةٌ مِنَّا فَتَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَاذْكُرْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ أَبُو رَافِعٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا أَبَا رَافِعٍ! اقْتُلْهُ فَإِنَّمَا يَمْنَعُهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مدینہ کے ہر کتے کو مارڈال۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بقیع کے قریب صورین جگہ میں چند انصاری عورتوں کو پایا،ان کے ساتھ ایک کتا تھا، انھوں نے کہا: اے ابو رافع! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے مردوں کو جنگ میں بھیج رکھا ہے اور اللہ کے بعد اب یہ کتا ہماری حفاظت کرتا ہے، اللہ کی قسم! اس کتے کے خوف کی وجہ سے کوئی مرد ہم تک اس وقت تک آنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا، جب تک ہم میں کوئی اٹھ کر اس کتے کو پیچھے نہ ہٹا دے، تم جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلاؤ، چنانچہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی بات بتلائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! تو اس کتے کو قتل کر دے، اللہ تعالی خود ان خواتین کی حفاظت کرے گا۔