حدیث نمبر: 6504
عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! مَاذَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ، نَقْتُلُهُنَّ بِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ كَانَ يَنْفَخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان کے گھر میں ایک نیزہ دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا: اے ام المؤمنین! آپ اس نیزے کو کیا کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا:ہم اس کے ساتھ یہ چھپکلیاں مارتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان کیا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور آگ بجھاتا تھا، ما سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ آگ پر پھونک مارتی تھی، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔

وضاحت:
فوائد: … چھپکلی کی پھونک آتش نمرود میں کوئی اشتعال پیدا نہ کر سکتی تھی، اس سے اس کی بدی اور خبث ِ باطن کا اظہار ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6504
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «الأمر بقتل الوزغ، وانه كان ينفخ علي ابراهيمGصحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 3231 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25289»