حدیث نمبر: 6500
عَنْ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ هَاهُنَا فَقَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أُرِيدُ قَتْلَهَا فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَأَهَّبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ ثُمَّ قَالَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا قَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سائب کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی حرکت محسوس کی،میں نے دیکھا کہ ایک سانپ تھا، پس میں کھڑا ہو گیا، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انھوں نے کہا:کیا ارادہ ہے؟میں نے کہا: اس کو مار دینے کا۔ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک بھتیجا اس گھر میں رہائش پذیر تھا، جب وہ غزوئہ احزاب سے واپس آیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر آنے کی اجازت طلب کی، اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور یہ حکم دیا کہ مسلح ہو کر جانا، پس جب وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے پر کھڑی ہے، اس نے غیرت کے مارے نیزہ اس کی طرف سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس نے کہا: جلد بازی میں نہ پڑ، پہلے وہ چیز دیکھ جس نے مجھے نکال دیا،جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا تو ایک مکروہ قسم کا سانپ تھا، اس نوجوان نے اس کو نیزہ مارا اور نیزے کے ساتھ اس کو باہر نکالنا چاہا، وہ سانپ تڑپ رہا تھا، میں نہیں جانتا کہ بندہ پہلے مرا ہو گا یا سانپ۔ پھر اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارا ساتھی واپس لوٹا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنوں میں سے کچھ افراد اسلام لا چکے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں تین مرتبہ یعنی تین دن تک ڈراؤ آگاہ کرو۔ اگر پھر بھی نظر آئیں تو تین دن کے بعد اگر انہیں مارانا چاہو تو مار سکتے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سانپ دراصل جِن تھا۔
مطلبیہ ہے بہت جلد سانپ مرگیا اور وہ نوجوان بھی فوت ہوگیا۔ ان دونوں کے بہت جلد مرنے کی صراحت صحیح مسلم میں ہے۔ زیر مطالعہ حدیث سے بھییہی بات سمجھ آرہی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6500
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه مسلم: 2236، وابوداود!: 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11389»