الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي وَفَادَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا معاویہ بن حیدہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 65
((مَا لِي أُمْسِكُ بِحْجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، أَلَا إِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ وَإِنَّهُ سَائِلٌ هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي وَأَنَا قَائِلٌ لَهُ رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُهُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا رب مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے رب! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔“
وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ تو ہوتا ہے کہ وہ برائیاں کر کے آگ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مختلف حکمتوں کے ذریعے اس طرح روکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پکڑ رہے ہیں۔ لوگو! یہ بات ذہن نشین کر لو کہ ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک مکمل دین پہنچا دیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغِ دین کے حوالے سے جو ذمہ داری ہمیں سونپی تھی، چند افراد کے علاوہ اس دور کے تمام مسلمان اس کو پورا کرنے سے غافل ہیں، سرے سے والدین کو یہ شعور نہیں ہے کہ ان کی اولاد کے حوالے سے ان پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ہم نے بزعم خود مساجد و مدارس سے متعلقہ لوگوں کو اس مِشن کا مکمل ذمہ دار سمجھ لیا، جبکہ نہ ہم اُن کے وجود کو کوئی اہمیت دیتے ہیں اور نہ ان کی باتوں کو۔