الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان باب: گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6498
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ لَا يَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر قسم کے سانپ مارنے کا حکم دیا کرتے تھے اور کسی کو نہیں چھوڑتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا ابو لبابہ بدری رضی اللہ عنہ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کر دیا تھا۔