الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان باب: گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6497
عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ فَاسْتَأْذَنَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ خَوْخَةٍ لَهُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَآهُمْ يَقْتُلُونَ حَيَّةً فَقَالَ لَهُمْ أَبُو لُبَابَةَ أَمَا بَلَغَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ أُولَاتِ الْبُيُوتِ وَالدُّورِ وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذَوِي الطُّفْيَتَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تمام قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیا کرتے تھے، ایک دن سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی کھڑکی سے مسجد میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ قتل کررہے تھے، پس سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا اور اس سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں۔