الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان باب: گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيُطْمِسَانِ الْبَصَرَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَهَانِي فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَهِيَ الْعَوَامِرُ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر پشت پر دو دھاریوں والے کو اور چھوٹی دم والے موذی سانپ کو، کیونکہ یہ دونوں حمل گرادیتے ہیں اور نظر مٹا دیتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا ابو لبابہ نے یا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کومارنے کے لئے اس کا پیچھا کر رہا تھا تو اس نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔